ہفتہ، 10 نومبر، 2018

آخری رکعت سے پہلے کسی رکعت میں سلام پھیر دے تو کیا کرے؟

*آخری رکعت سے پہلے کسی رکعت میں سلام پھیر دے تو کیا کرے؟*

سوال :

جناب مفتی صاحب آج میں نے وترکی نماز اس طرح پڑھی کہ دو رکعت پر قعدہ میں بیٹھا اور بھول سے دونوں طرف سلام پھیر دیا ۔ یاد آگیا کہ غلطی ہو گئی ہے، فوراً نیت باندھ لی، اور ایک رکعت جیسے وترکی پڑھی جاتی ہے پڑھ لی ۔ قعدہ میں التحیات کے بعد سجدہ سہو کرلیا ۔ رہنمائی فرمائیں کہ نماز وتر ہوگئی ؟ یا دوہرانا پڑے گا؟
(المستفتی : ابراہیم اعجاز، مالیگاؤں)
-----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : اگر کوئی شخص تین رکعت کے بجائے دو رکعت پر سلام پھیر دے اور بعد میں تیسری رکعت کا بھول جانا یاد آجائے، لیکن ابھی تک نماز کے منافی کوئی عمل نہ کیا ہو مثلاً سینہ قبلہ سے نہ پھِرا ہو اور کوئی بات چیت نہیں کیا ہو تو اس کے لئے ایک رکعت پوری کرلینے کی گنجائش ہے، اللہ اکبر کہتا ہوا کھڑا ہوجائے اور اس آخری رکعت میں سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کرلے، نماز درست ہوجائے گی، از سر نو نماز پڑھنا ضروری نہیں، لیکن اگر سجدہ سہو نہ کیا ہوتو نماز کا اعادہ واجب ہوگا ۔

اسی طرح اگر خود سے یاد نہ آیا ہو، بلکہ کسی اور نے یاد دلایا تو اگر اس نے ایک لمحہ سوچا  اس کے بعد اسے خود یاد آگیا پھر اس نے کھڑے ہوکر مذکورہ بالا طریقے پر نماز پوری کرلی تو نماز صحیح ہوجائے گی، لیکن اگر اسے خود یاد نہیں آیا اورنماز سے باہر کسی شخص کی یاد دہانی پر فوراً کھڑا ہوا تو نماز درست نہ ہوگی، بلکہ اس کا اعادہ واجب ہوگا، اس لئے کہ اس نے نماز کے باہر کسی شخص کا لقمہ لیا ہے، جس کی وجہ سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر آپ نے نماز کے منافی کوئی عمل نہیں کیا، مثلاً بات چیت یا قبلہ کی طرف سے رخ نہ پھیرا ہوتو آپ نے صحیح کیا، آپ کی نماز درست ہوگئی، دوہرانے کی ضرورت نہیں ۔ اور اگر نماز کے منافی کوئی عمل کرلیا ہوتو وتر کا اعادہ ضروری ہوگا ۔

ویسجدللسہو وجوبا وان سلم عامدا مریدا للقطع لان مجرد نیۃ تغییر المشروع لاتبطلہ ولاتعتبر مع سلام غیرمستحق وہوذکرفیسجدللسہو لبقاء حرمۃ الصلاۃ مالم یتحول عن القبلۃ اویتکلم لابطالہماالتحریمۃ ۔ ( مراقی الفلاح مع الطحطاوی : ۴۷۲ ) 

ویسجدللسہو ولومع سلامہ ناویا للقطع لان نیۃ تغییر المشروع لغو ما لم یتحول عن القبلۃ اویتکلم لبطلان التحریمۃ ۔ ( ردالمحتار : ۵۵۵/۱ )

یفسد الصلاۃ) فتحہ علی غیر إمامہ۔ قال الشامی: لأنہ تعلم وتعلیم من غیر حاجۃٍ، وھو شامل لفتح المقتدی علی مثلہ، وعلی المنفرد، وعلی غیر المصلي وعلی إمام آخر ۔ (شامی زکریا،۲/۳۸۱)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
01 ربیع الاول 1440

2 تبصرے: