جمعرات، 22 نومبر، 2018

نماز میں چھینک کا جواب یا درود شریف پڑھ دینے کا حکم

*نماز میں چھینک کا جواب یا درود شریف پڑھ دینے کا حکم*

سوال :

اگر نماز میں چھینک آجائے تو الحمدللہ کہیں گے یا نہیں؟
۲) اگر ہم نماز پڑھ رہے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ سنے یا یہ آیت ان اللہ و ملائکتہ۔۔۔سنی تو درود شریف کا کیا حکم ہے؟
۳) دوران نماز کوئی بری خبر سن لے تو ؟؟ انا للہ پڑھے یا نہیں؟
(المستفتی : راشد احمد، مالیگاؤں)
---------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : نماز کے دوران چھینک آنے پر خاموش رہے الحمدللہ نہ کہے اور اگر کہہ دیا تو اس سے  نماز  فاسد نہیں ہوگی ۔ اور اگر کسی مصلی نے اس کے جواب میں یرحمک اللّٰہ کہہ دیا تو جواب دینے والے کی نماز  فاسد ہوجائے گی،  کیونکہ سوال وجواب کی نوعیت کی وجہ سے اب یہ بات کلام الناس (انسان کی باہمی گفتگو ) کے قبیل سے ہوگئی اور گفتگو سے  نماز  فاسد ہوجاتی ہے۔

ولو قال العاطس لا تفسد صلاتہ ، و ینبغی أن یقول في نفسہ و الأحسن ھو السکوت ، کذا فی الخلاصۃ ( الفتاوی الھندیۃ : ۱/۹۸ )

رجل عطس فقال المصلی : ’’ یرحمک اللّٰہ ‘‘ تفسد صلاتہ ۔ (الفتاوی الھندیۃ : ۱/۹۸ )

۲) اسی طرح اگر امام نے قرآن کریم کی آیت ‌‌‌" ‌‌ان اللہ و ملئکتہ الخ یا‌‌ " ‌‌محمد رسول اﷲ والذین معہ ‌‌" ‌‌کو  نماز میں پڑھا اور مقتدی نے فوراً درود شریف پڑھ دیا، تو مقتدی کی نماز فاسد ہوجائے گی، اور اگر آپ  ﷺ کا نام سنے بغیر درود پڑھ دے تو نماز فاسد نہ ہوگی ۔

اذا سمع اسم النبی ﷺ فصلی علیہ فہذا اجابۃ فتفسد وان صلی علیہ ولم یسمع اسمہ لاتفسد (الدر مع الشامی : ۱/۶۲۱)

۳) دوران نماز بری خبر سنے تو اناللہ وانا الیہ راجعون نہیں پڑھنا چاہیے، اگر پڑھ لیا تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔

وجواب مستفہم عن نادٍ بلا اٰلہ إلا اللّٰہ وخبر سوء بلاسترجاع وسار بالحمد للّٰہ۔ (نور الایضاح مع المراقي : ۱۱۹)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامرعثمانی ملی
15 فروری 2017

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں