اتوار، 11 نومبر، 2018

وتر کے بعد پڑھی جانے والی تسبیح کی  فضیلت والی روایت کی تحقیق

سوال :

ایک آڈیو سوشل میڈیا پر کافی دنوں سے گردش کررہی ہے، اور اب اس آڈیو کو تحریری شکل میں اہتمام کے ساتھ شئیر بھی کیا جارہا ہے، اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے۔
روایت درج ذیل ہے :
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت فاطمہؓ سے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان مرد یا عورت وتر کے بعد دو سجدے اس طرح کرے کہ ہر سجدہ میں پانچ مرتبہ’’سبوح  قدّوس ربّ الملائکۃ والرّوح‘‘ پڑھے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر ایک مرتبہ آیۃ الکرسی پڑھے تو قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے اللہ تعالیٰ اُس شخص کے وہاں سے اٹھنے سے پہلے مغفرت فرمادیں گے اور ایک سو حج اور ایک سو عمروں کا ثواب دیں گے اور اس کی طرف سے اللہ تعالیٰ ایک ہزار فرشتے بھیجیں گے جو اس کے لئے نیکیاں لکھنی شروع کردیں اور اسکو سو غلام آزاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور اس کی دعاء اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے اور قیامت کے دن ساٹھ اہلِ جہنم کے حق میں اس کی شفاعت قبول ہوگی اور جب مرے گا تو شہادت کی موت مرے گا۔
(المستفتی : انصاری محمد عبداللہ، مالیگاؤں)
----------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور روایت موضوع (من گھڑت) ہے ۔

علامہ شامی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی کی جلد دوم، سجدہ تلاوت کے باب میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا ( فَحَدِيثٌ مَوْضُوعٌ بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ) کہ یہ روایت موضوع ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (شامی،  2/120)

اسی طرح شیخ ابراہیم حلبی حنفی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو موضوع قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس روایت کو بیان کرنا جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ اس کے موضوع ہونے کو بھی بیان کیا جائے، جیسا کہ موضوع روایات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

وأما ماذکرہ فی التاتارخانیۃ عن المضمرات ان النبیاقال لفاطمۃؓ ما من مؤمن ولا مؤمنۃ…الخ۔فحدیث موضوع باطل لا أصل لہ ولا یجوزالعمل بہ ولا نقلہ الا لبیان بطلانہ کما ھوشأن الأحادیث الموضوعۃ، ویدلک علٰی وضعہ رکاکتہ والمبالغۃ الغیرالموافقۃ للشرع والعقل،فان الأجرعلی قدرالمشقۃ شرعًا وعقلاً ، وأفضل الأعمال أحمزھا، وانما قصد بعض الملحدین بمثل ھذا الحدیث افساد الدین اضلال الحق واِغرائھم بالفسق وتثبیطھم عن الجد فی العبادۃ فیغتربہ بعض من لیس لہ خبرۃ بعلوم الحدیث وطرقہ ولا ملکۃ یمیز بین صحیحہ وسقیمہ۔ (غنیۃ المتملی في شرح منیۃ المصلی۶۱۷) 

خلاصہ یہ کہ مذکورہ روایت کی فضیلت کسی بھی حدیث کی مستند کتاب میں موجود نہیں ہے، کتبِ فقہ میں اگرچہ اس کے مشہور ہونے کو بیان ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے من گھڑت ہونے کو بھی بیان کیا ہے، لہٰذا اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرنا اور اس کا پھیلانا جائز نہیں ہے۔

البتہ وتر کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے تسبیح سُبْحَانَ الْمَلَکِ ا لْقُدُّوْسِ رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ  کا پڑھنا ثابت ہے ۔

احادیث ملاحظہ فرمائیں :

حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ جب وتر کی نماز میں سلام پھیرتے تو یہ کہتے سُبْحَانَ الْمَلَکِ الْقُدُّوْسِ (یعنی پاک ہے بادشاہ نہایت ) ۔ ( ابوداؤد و سنن نسائی)

امام نسائی نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ " آپ ﷺ یہ (تسبیح) تین مرتبہ کہتے تھے اور تیسری مرتبہ آواز بلند فرماتے تھے ، نیز نسائی نے ایک روایت عبدالرحمن بن ابزی سے نقل کی ہے جس میں وہ (عبدالرحمن) اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیر لیتے تو تین مرتبہ سُبْحَانَ الْمَلَکِ  الْقُدُّوْسِ فرماتے ہیں اور تیسری مرتبہ بآواز بلند فرماتے ہیں ۔

اسی طرح سنن دار قطنی میں ایک روایت نقل کی گئی ہے اس میں " رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ" کے الفاظ بھی مذکور ہیں ۔

گویا پوری تسبیح یوں ہوگی ۔  سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ ۔

تاہم سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ پر اکتفا کرنا بھی کافی ہے۔

وعن أبي بن کعب قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذاسلّم في الوتر، قال: سبحان الملک القدوس۔(رواہ أبوداؤد والنسائي) وزادالنسائي:ثلاث مرات یطیل ‘‘ وفي روایۃ للنسا ئي عن عبد الر حمٰن بن أبزی عن أبیہ، قا ل:کان یقول إذاسلّم :’’ سبحان الملک القد وس‘‘ ثلاثا ویر فع صو تہ بالثالثۃ۔ (مشکوۃ، باب القنوت ۱؍۱۱۲)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ , ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ فِطْرٍ , عَنْ زُبَيْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ , فِي الْأَخِيرَةِ يَقُولُ: «رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ» (دارقطنی ، حدیث نمبر ١٦٦٠)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
24 ذی الحجہ 1439

3 تبصرے: