پیر، 12 نومبر، 2018

کھانے میں زمینی دسترخوان کے بجائے تپائی استعمال کرنا

*کھانے میں زمینی دسترخوان کے بجائے تپائی استعمال کرنا*

سوال :

محترم المقام مفتی صاحب درج ذیل کے مسئلے میں رہنمائی فر ما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
جیسا کہ آج کل شادیوں کا سیزن چل رہا ہے تو کئی جگہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کھا نے کیلئے دستر خوان کی جگہ اونچی تپائی کا نظم کیا جاتا ہے۔ اس طریقے پر کھا نا کیسا ہے؟ اور اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(المستفتی : محفوظ الرحمن، مالیگاؤں)
----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے : حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ، حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی خوان پر کھانا نہیں کھایا اور نہ چھوٹی چھوٹی طشتریوں میں کھایا اور نہ آپ ﷺ کے لئے پتلی پتلی چپاتی پکائی گئی ! حضرت قتادہ ؓ سے پوچھا گیا کہ وہ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ یہی چمڑے کے دسترخوان پر ۔

خِوان سے مراد  چوکی  یا میز ہے جس پر کھانا رکھ کر کھایا جائے تاکہ کھانے میں جُھکنا نہ پڑے چنانچہ یہ مال دار عیش پسند متکبر اور غیر اسلامی تہذیب کے حامل لوگوں کا شیوہ ہے کہ وہ میز پر یا چوکی  پر کھانا رکھ کر کھاتے تھے اسی لئے أنحضرت ﷺ نے کبھی بھی اس طریقہ سے کھانا پسند نہیں فرمایا ۔

ذکر کردہ حدیث شریف کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو سوال نامہ میں مذکور تپائی اس زمرے میں نہیں آتی، کیونکہ اس کی اونچائی اتنی نہیں ہوتی کہ اس میں جُھکنا نہ پڑے، بلکہ اس کی اونچائی بہت کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے کھانے کی طرف جُھکنا ہی پڑتا ہے، لہٰذا اس تپائی پر کھانا بلاکراہت درست ہوگا۔

البتہ مذکورہ تپائی کا انتظام بلاضرورت کیا جاتا ہے جبکہ پلیٹ نیچے دسترخوان پر رکھ کر کھانے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے، چنانچہ شادی اور دیگر تقریبات کی دعوت طعام میں ان تپائیوں کا انتظام کرنا ایک طرح کی فضول خرچی ہی کہلائے گا، اور شریعت مطہرہ نے فضول خرچی کو ناپسند فرمایا ہے، لہٰذا اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

حَدَّثَنَا  عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا  مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي  أَبِي ، عَنْ  يُونُسَ ، عَنْ  قَتَادَةَ ، عَنْ  أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ  قَالَ :  مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ، وَلَا فِي  سُكُرُّجَةٍ ، وَلَا خُبِزَ لَهُ  مُرَقَّقٌ . قُلْتُ لِقَتَادَةَ : عَلَامَ يَأْكُلُونَ ؟ قَالَ : عَلَى السُّفَرِ ۔(صحيح البخاري، حدیث نمبر 5415)

قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ : وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا ۔ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ، وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا ۔ (سورہ بنی اسرائیل : ۲۶-۲۷ )فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
04 ربیع الاول 1440

4 تبصرے:

  1. دیکھا یہ گیا ہے کہ اس میں کپڑے خراب نہیں ہوتے اور صفائی ذیادہ رہتی ہے ورنہ عام طور پر صفائی کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا اور رکھتے ہیں تب بھی کپڑے گندے ہونے کا اندیشہ رہتا ہی ہے
    اس لئے اس کو فضول خرچی کہنا شاید صحیح نہ ہو
    جو لوگ استعمال کرتے ہیں ان سے اس کے فوائد پوچھے جائیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. جی۔

    ایک طرح کی فضول خرچی لکھا ہوں، مطلقاً حکم نہیں لگایا گیا ہے، مطلب زمین پر بیٹھ کر کھانے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے، اور صفائی کا انتظام بھی اب تک اس میں ہوتا رہا ہے۔ اب یہ تپائی کا تکلف بلاضرورت خرچ معلوم ہوتا ہے، اس پر کھانے میں تکلیف بھی ہوتی ہے، جس پر کسی نہ کسی درجہ میں فضول خرچی پائی جاتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. واجب التکریم حضرت مفتی صاحب مدظلہ
    السلام علیکم
    گجرات کے ایک بہت بڑے مدرسہ میں جانا ہوا اور وہاں پر شہر مالیگاؤں کے بھی اکابرین موجود تھے اور وہاں پر بھی تپائ لگی ہوئ تھی کھانے کے لئے تو پھر کیا کیا جاۓ واللہ میں نہ اکابرین پر اعتراض کررہا ہوں نہ ہی آپ کے فتوے پر لیکن اس کی صحیح تحقیق مطلوب ہے

    جواب دیںحذف کریں