فرض نماز کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کی جگہ تشہد پڑھ دے؟

*فرض نماز کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کی جگہ تشہد پڑھ دے؟ *

سوال :

مفتى صاحب اگر امام بھول کر فرض کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بجائے التحيات پڑھتا رہا پھر یاد آنے پر سورہ فاتحہ پڑھی تو نماز کا کیا حکم ہے؟ سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ مدلل جواب ارسال فرمائیں۔
(المستفتی : صغير احمد، اورنگ آباد)
------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : اگر کسی نے تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمد سے پہلے تشہد پڑھا یا تسبیح وغیرہ کچھ ذکر پڑھا، یا الحمد کے ساتھ قرأت کی تب بھی سجدہِ سہو واجب نہیں ہوگا، اس لئے کہ فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا مسنون ہے، واجب نہیں ہے کہ جس کے ترک ہونے یا تاخیر ہونے سے سجدہ سہو واجب ہو۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نماز درست ہوگئی، اعادہ کی ضرورت نہیں۔

وَعَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا  كَانَا يَقُولَانِ : الْمُصَلِّي بِالْخِيَارِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، إنْ شَاءَ قَرَأَ وَإِنْ شَاءَ سَكَتَ وَإِنْ شَاءَ سَبَّحَ۔ (بدائع الصنائع : ١/١١١)

(وَهُوَ مُخَيَّرٌ بَيْنَ قِرَاءَةِ) الْفَاتِحَةِ .... (وَتَسْبِيحٍ ثَلَاثًا) وَسُكُوتِ قَدْرِهَا۔ (شامی : ١/٥١١)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
4 فروری 2017

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ہے ہکوکا مٹاٹا کی حقیقت ؟

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی